Ayubbi Empire

سلطان صلاح الدین ایوبی کو خراج تحسین

 

حال ہی میں ترکیہ کی جانب سے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمة اللہ علیہ کی سوانح حیات پر مبنی ڈرامہ سیریل آیا تو سب اپنے اس عظیم ہیرو کی داستان کو دیکھنے لگے آج میرا دل کررہا تھا کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کو خراج تحسین پیش کروں جنہوں نے اپنی زندگی کو اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کردیا

یہ وہ وقت تھا جب امت مسلمہ فتنوں کا شکار ہوکر طرح طرح کی گروہ بندی میں متفرق ہوچکی تھی کہیں کوئی سیاسی اختلاف تھا کہیں دینی کہیں علاقائی اور کہیں زبان رنگ و نسل کا امتیاز ہوچکا تھا الغرض امت مسلمہ ٹکڑے ٹکڑے ہوچکی تھی سلطان نورالدین زنگی کی تربیت میں اپنا سفر فتوحات شروع کرنے والے سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب فاطمی سلطنت کے خاتمے کے بعد ایوبی سلطنت کا قیام کیا تو انتہائی مشکلات درپے ہوئیں

اسی دوران بیت المقدس جس پر پوری دنیا کی نظر تھی اور اس نظر رکھنے کی وجہ بیت المقدس کی سرزمین کا روحانی اور تجارتی اعتبار سے پوری دنیا سے الگ حیثیت رکھنا تھا یہ وہ جگہ تھی جہاں جس کی حکومت ہوتی وہ زمین و سمندروں پر طاقت پر حکمران جانا جاتا اور اس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی کا سامنا صلیبی قوم سے تھا وہ جو بیت المقدس کے مسئلہ پر تقریبا متحد تھے ان کے پاس جدید اسلحہ اور قوت تھی وہ دنیا کو آنکھیں دیکھاتے تھے

Sultan Salahuddin Ayubi History In Urdu

سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی اول تو بیت المقدس کو فتح کرنے کی سوچ کو ذہن سے نکال دیا تھا مگر پھر کچھ ایسا ہوا جس سے سلطان صلاح الدین ایوبی نے قسم کھائی اور وہ واقعہ یہ تھا کہ جب یروشلم کا گورنر مر گیا اور نیا گورنر آیا پرانے گورنر کا سلطنت ایوبیہ کے ساتھ امن کا معائدہ تھا کیونکہ یروشلم اتنا مضبوط تھا اور ایوبی سلطنت میں بہت سارے فتنے سر اٹھارہے تھے تو سلطان نے یروشلم کو فتح کرکے پوری دنیا کو اپنے مخالف کرنے کے بجائے پہلے اپنی ریاست کو درست کرنے پر توجہ دی اور اندرون خانہ تیاری شروع کردی تھی ہوا کچھ یوں تھا کہ نئے حاکم نے آتے ہی سلطان صلاح الدین ایوبی سے پنگے کرنے شروع کردیے کیونکہ اسے ایوبی سے سخت نفرت تھی اور اس نفرت کی وجہ اس کی ماضی میں سلطان سے کھائی گئی بدترین شکست تھی

سلطان صلاح الدین ایوبی محافظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

ان وجوہات کی بنیاد پر اس نئے گورنر نے اپنے صلیبی جرنیل کو حکم دیا کہ کسی طرح ایوبی کو ابھارو تو اس صلیبی جرنیل نے مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹنا شروع کردیا اور اس نے اس قافلے والوں سے کہا کہ نعوذ بااللہ تمہارے نبی کدھر ہیں ان کو مدد کے لیے بلاو اور اس نے یوں کئی گستاخانہ جملے استعمال کیے جب بات صلاح الدین ایوبی تک پہنچی تو اس نے قسم کھائی کہ میں جب تک اس شخص کو قتل نہیں کردیتا میں بستر پر اپنی کمر نہیں لگاوں گا اور جنگ کی تیاری شروع کردی

تاریخ گواہ ہے سلطان صلاح الدین ایوبی دو سال تک بستر پر نہیں لیٹے جب تھکان ہوتی درخت کے ساتھ ٹیک لگاکر نیند کرتے سلطان یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ مجھے اس وقت تک موت نا دینا جب تک تیرے نبی کے دشمن سے میں بدلا نا لے لوں وقت گزرتا گیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے بلاخر یروشلم کو فتح کرلیا اور عام معافی کا اعلان کردیا حتی کے سب حاکموں گورنروں جرنیلوں کو بھی معاف کردیا مگر جب وہ جرنیل جس کا نام برنس وہ سامنے آیا تو صلاح الدین نے اسے یاد دلایا کہ تم نے کہا تھے محمد کدھر ہیں یہ دیکھو ان کا غلام آگیا ہے اور اسے قتل کردیا تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں مسلمان حکمرانوں نے سب چیزیں برداشت کی ہیں مگر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی بات کرے یہ کسی نے برداشت نہیں کیا

یروشلم کو فتح کرنے کے بعد بھی صلاح الدین ایوبی نے نیا جبہ و دستار پہنی اور وہ دن سوچیں ان کے لیے کتنا خوشی کا دن ہوگا جیسے آج بیت المقدس کوئی آزاد کروادے تو اس کے لیے کیسا سماں ہوگا صلاح الدین ایوبی نے ساری زندگی سادگی سے گزاری اور اس قدر فقیر آدمی تھے کہ مرتے وقت ان کے کفن دفن کے پیسے بھی نہیں تھے اللہ تعالی کی طرف سے امت مسلمہ پر ایسے حکمران ایک تحفے کی مانند ہیں جنہوں نے امت کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی روشنی سے منور کیا اور عالم اسلام کو عزت دلوائی اللہ تعالی سلطان صلاح الدین ایوبی کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے

آج بھی بیت المقدس کسی صلاح الدین ایوبی کا منتظر ہے اللہ تعالی ہمیں صلاح الدین ایوبی بننے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے ہمیں کوئی ایوبی کا جانشین عطا فرمائے جو درد دل رکھتا ہو اور چینختے ہوئے مسلمانوں کی فریاد پر لبیک کہتا ہوا ان کی مدد کو جائے آمین

ہمارے مزید آرٹیکل پڑھیں

ترک قائی سردار سلیمان شاہ کا تاریخ میں کردار

تاج الدین نویان Tajuddin Noyan History
تاج الدین نویان Tajuddin Noyan In Kurulus Osman
Umer Khayam History In urdu
Umer Khayam History In urdu

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button