Sufi

یونس ایمرے ایک مشہور ترک صوفی بزرگ

 

ترکوں کے محبوب اور مقبول ترین صوفی شاعر  یونس ایمرے جنہیں ترکی اور وسطی ایشیائی ممالک یعنی کہ آذر بائیجان بلقان اور البانیہ وغیرہ میں امام جلال الدین رومی سے بھی بڑا عوامی شاعر مانا جاتا ہے اگر برصغیر پاک و ہند میں کسی سے پوچھا جائے کہ ترکی کے سب سے مقبول اور سب سے بڑے صوفی شاعر کون ہیں تو فورا ہی ان کی پر حضرت جلال الدین رومی کا نام آئے گا۔

مگر آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ اگر یہی سوال کسی ترکی باشندے سے کیا جائے تو اس کا جواب کچھ اور ہوگا۔ عالمی سطح پر تو تیرویں صدی عیسوی کے مشہور صوفی شاعر اور مفکر جلال الدین رومی کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔

ترکی ایران اور برصغیر پاک و ہند میں امام جلال الدین رومی کی شہرہ آفاق تصنیف مثنوی ایک نہایت محترم کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ امام رومی کی شاعری کا دنیا کی بیشتر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اور یہ کلام رومی امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے کلام میں شامل ہیں۔

طبب اردگان کے یونس ایمرے کے بارے میں خیالات

ترکی کے صدر طیب اردگان کہتے ہیں کہ یونس ایمرے کے نقش قدم پر چل کر ہم دلوں کو جوڑ سکتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یونس  ایمرےنے ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ حضرت یونس ایمرے جیسی آتش رومی جیسی فکر اور حاجی بغداد جیسے تحمل اور وقار کے بغیر قوم کی خدمت نہیں کی جا سکتی۔ اب یہ بات تو یہاں واضح ہے کہ ترکی میں ایک ایسے صوفی شاعر ہیں جنہیں امام جلال الدین رومی سے بھی بڑا عوامی شاعر مانا جاتا ہے اور یہ ترک باشندوں کے محبوب اور مقبول ترین شاعر ہیں۔

یونس ایمرے کا تعارف

یونس ایمرے تیرویں صدی کے معروف ترک صوفی شاعر ہیں۔ جنہیں عربی زبان اور لہجے میں یونس ایمرہ بھی لکھا جاتا ہے۔ تصوف اور روحانیت کے حوالے سے یونس ایمرے کا کلام رباعی گیت، نظم، غزلیں نہ صرف ترکی بلکہ وسطی ایشیائی ممالک بلقان آذربائیجان اور البانیہ میں بھی بے حد مشہور ہے تو دوستو کچھ بات کر لیتے ہیں یونس ایمرے کی ذاتی زندگی کے حوالے سے

یونس ایمرے بارہ سو اڑتیس میں ترکی کے اصلی شہر کے سارے کوہ نام علاقے میں پیدا ہوئے ایمرے کے معنی ہیں دوست محبوب اور عاشق اور آپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کا گھرانہ گاؤں میں ایک غریب کسان کی حیثیت سے ہل چرا کر گزر اوقات کیا کرتا تھا کہا جاتا ہے کہ ابھی یونس ایمرے نو عمر ہی تھے کہ انا تولیہ میں سخت قحط پڑ گیا ان کا گاؤں قحط سے بری طرح متاثر ہوا۔

تب یونس ایمرے کو اپنے سے زیادہ دوسروں کی فکر تھی۔ یونس ترکی کے معروف صوفی بزرگ حاجی بکتاش ولی کی درگاہ کے لیے روانہ ہوئے۔ رقم پاس نہیں تھی اور درویش کے پاس خالی ہاتھ بھی نہیں جانا چاہتے تھے۔ اس لیے جنگل سے کچھ پھل توڑ لیے۔ حاجی بقاش بہت پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔

یونس ایمرے کا بچپن

انہوں نے اپنے ایک مرید خاص کو کہا کہ آج ایک لڑکا یونس آنے والا ہے۔ تم اس سے پوچھنا کہ اس کو اناج چاہیے یا برکت جب درویش حاجی بغداش کی درگاہ پر پہنچے تو حاجی بغداش رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے خود ان سے پوچھا کہ بیٹا تم گندم لینا چاہتے ہو یا برکت یہ سوال انہوں نے تین مرتبہ پوچھا کیونکہ یونس نو عمر تھے اس لفظ سے نا آشنا تھے انہوں نے پوچھا کہ کیا برکت اتنی ہی جگہ لے گی جتنا کہ اناج جواب ملا نہیں برکت تو چھوٹی سی جگہ میں سما سکتی ہے یونس کو خیال آیا کہ ان کے یہاں لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں ایسے میں اتنی سی چیز لے کر کیا کروں گا؟

یونس نے درگاہ سے گندم اور اناج کی بوریاں اٹھائیں اور خوشی خوشی گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ ان کے ذہن میں خیال آیا کہ ہو سکتا ہے کہ برکت کوئی ہیرا یا سونا ہو جس کو بیچ کر بہت سا اناج لیا جا سکے۔ یہ سوچ کر درگاہ کی طرف واپس پلٹے دوبارہ حاضر ہو کر برکت طلب کی۔

یونس کو جواب ملا کہ ان کے حصے کی برکت و بغداش سلسلہ صوفیہ کے دوسرے شیخ حضرت تاپدوک ایمرے کو بھیجی جا چکی ہے

یونس ایمرے بطور قاضی

الغرض قصہ مختصر حالات نے کچھ ایسا رخ کر لیا کہ چند سال بعد جب یونس ایمبرے انا تولیہ کے ایک شہر نالیان میں قاضی کے عہدے پر فائز تھے تو وہاں آپ کی ملاقات صوفی بزرگ تاپدوک ایمرے سے ہوئی یونس ایمرے نالیان شہر کے قاضی تھے عدل قائم کرنا ان کی ذمہ داری تھی

Yunus Emre History In Urdu

یونس ایمبرے عدل کی فراہمی میں کسی رعایت کے قائل نہ تھے قاضی یونس ایمرے کے فیصلوں اور کئی اقدامات نے جلد ہی نالیہان شہر میں عوام میں ان کی دھاک بٹھا دی اب نالیان شہر میں صوفی بزرگ تاپدوک ایمرے کی درگاہ بھی تھی تو یونس ایمری کی تاپدوک ایمرے سے بطور قاضی کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اور یونس ایمرے پر صوفی تاپدوک ایمرے کی صحبتوں کا کچھ ایسا رنگ جما کہ انہوں نے تاپدوک ایمرے کی شاگردی اختیار کرنے اور ان سے حصول علم کے لیے قاضی کے منصب سے استعفی دے دیا۔

یونس ایمرے شیخ کی خدمت میں

تاپدوک ایمرے سے آپ نے قرآن و حدیث کے علوم اور روحانیت کے اسرار اور عموع سیکھنے کے لیے چالیس سال ان کی خدمت میں گزارے۔ تاپدوک ایمرے نے یونس کو بہت سخت مجاہدوں سے بھی گزارا۔ یونس نے کئی سال تک درگاہ کے لیے لکڑہارے کے فرائض بھی انجام دیے۔ اور اسی دوران یونس کی شادی بھی کی بیٹی سے ہوئی۔ اگر تابطوک اور یونس کے درمیان تعلق پر بات کی جائے تو اپنی بات کو مختصر کرکے ہم صرف اتنا کہیں گے کہ مولانا روم سے جو تعلق حضرت شمس تبریز کا تھا وہی تابتوک کا یونس ہے۔

دوستوں یونس ایمرے کا زمانہ بہت زیادہ آزمائشوں والا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں سقوط بغداد کے بعد پونیا پر سلوک ترک حکمران تھے۔ اس وقت کونیا اور انا تولیہ کا نواحی علاقہ ان وسطی ایشیا کے مہاجرین کے لیے واحد پناہ گاہ تھا۔ جن کے آبائی وطن کو منگول حملہ آوروں کی یورش اور قتل و غارت گری نے تباہ و برباد کر دیا تھا۔ دوستوں حضرت یونس امریک نے تیرہ سو بیس میں وفات پائی۔ حضرت یونس ایمری کے مدفن کا یقینی علم نہیں ہے۔ غالب امکان ہے کہ آپ سارے کوے میں دفن ہیں یہ یونس حضرت جلال الدین رومی کے ہم اثر تھے

مولانا جلال الدین رومی اور یونس ایمرے

یعنی ان کا زمانہ تقریبا ایک تھا اور یہ مولانا جلال الدین رومی سے اکتیس سال چھوٹے تھے ترکی میں یونس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نہ صرف ڈاک ٹکٹ بلکہ ترکی کی کرنسی اور سکھوں پر بھی ان کی تصاویر نقش ملتی ہیں یونس کے مجسمے اور یادگاریں ان کے آبائی شہر انا دولدو یونیورسٹی کارامان حاجی بکتاش نوشہر زیتین بورنوں سمیت کئی دیگر شہروں میں ملتے ہیں کے نام پر کئی انسٹیٹیوٹ، فاؤنڈیشنز، یونیورسٹیز، اوپیرا اور کلچرل سینٹر بھی قائم ہیں۔ یونس کی حیات و تعلیمات پر ترکی میں کئی کتب شائع ہو چکی ہیں۔

ڈرامہ سیریل یونس ایمرے عشق کی داستان

انیس سو چوہتر  میں ان پر ایک فلم بھی بنائی جا چکی ہے۔ اور حال ہی میں ترکی کے پہلے قومی ٹیلی وژن ٹی  آر ٹی وم کی جانب سے یونس کے حالات زندگی پر انہی کے نام سے ایک ٹی وی سیریز جس کا نام یونس جرنی آف لو یعنی کہ یونس محبت کا سفر تیار کیا ہے۔ جو کہ دو اور تقریبا پینتالیس اقساط پر محیط ہےدوستوں یونس کے حیات و تعلیمات سے دنیا پوری طرح واقف نہیں ہے۔ ہمیں یونس کے وہی حالات ملتے ہیں جو انہوں نے ترکی میں گزارے۔

ترکی کے دوسرے علاقوں اور وسط ایشیائی ممالک میں ان کے سفر کے متعلق مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اور یونس کے نام سے شروع کیا گیا ڈرامہ بھی پوری طرح سے تاریخی حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ مگر پھر بھی یہ ڈرامہ دیکھنے کے قابل ضرور ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ آپ بھی اس ڈرامے کو ایک بار ضرور دیکھیے گا

آپ ہمارے مزید آرٹیکلز بھی پڑھ سکتے ہیں تصویر پر کلک کیجئے اور آرٹیکل پڑھیں

مولانا جلال الدین رومی کا تعارف Mulana Jalaluddin Rumi History
مولانا جلال الدین رومی کا تعارف Mulana Jalaluddin Rumi History
سلطان نورالدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کی بائیوگرافی
سلطان نورالدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کی بائیوگرافی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button