Seljuk Empire

سلطان ملک شاہ سلجوقی کے کارنامے اور بائیوگرافی

 

اسلام علیکم ناظرین ! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ہم آپ کو اپنی ویب سائٹ پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ ناظرین کرام جس طرح آپ TRT پر نشر ہونے والا ترکش ڈرامہ عظیم سلجوق دیکھ رہے ہیں اور اس میں دکھائے جانے والے مرکزی کرداروں میں سے ایک کردار سلطان ملک شاہ اول کا بھی ہے۔ تاریخ کے عین مطابق اس ڈرامے میں سلطان ملک شاہ کردار کچھ سخت مزاج ،اصولوں کا پابند اور ریاست کی خاطر جان تک دے دینے والا دکھایا گیا ہے۔ جہاں ان کی قوت فیصلہ نے عوام کے دل جیت لئے ہیں وہاں ان کے جنگ کے دوران دل ہلا دینے والے رد عمل نے عوام کو اور بھی متوجہ کر رکھا ہے ۔ ایسے میں آج ہم آپ کو سلطان ملک شاہ کی مکمل بائیو گرافی بتائیں گے۔

سلطان ملک شاہ کی تاریخ

ملک شاہ 16 اگست 1055 کو پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی جوانی اصفہان میں گزاری ۔ 12 ویں صدی کے فارسی مؤرخ محمد بن علی راوندی کے مطابق ، سلطان ملک شاہ کی جلد صاف ، لمبی اور کچھ زیادہ بڑی تھی۔ 1064 میں ، ملک شاہ اس وقت تک صرف 9 سال کے تھے ، سلطنت کے فارسی وزیر نظام الملک نے قفقاز میں الپ ارسلان کی مہم میں حصہ لیا تھا۔ اسی سال ، ملک شاہ کی شادی کرکنیڈ خان ابراہیم تمھاچھ خان کی بیٹی ، ترکن خاتون سے ہوئی تھی۔ 1066 میں ، الپ ارسلان نے مرو کے قریب ایک تقریب کا اہتمام کیا ، جہاں الپ ارسلان نے ملک شاہ کو اپنا وارث مقرر کیا اور اسے اصفہان کو بطور تحفہ دے دیا۔ یہاں کی تمام حکمران سلطان ملک شاہ کو دے دی گئی ۔

ایک ہزار اکہتر عیسوی میں ، ملک شاہ نے اپنے والد کی شامی مہم میں حصہ لیا ، اور حلب میں اس وقت ٹھہرے جب ان کے والد نے منزیکرٹ میں بازنطینی شہنشاہ رومانوس IV ڈائیجینس سے لڑا۔ 1072 میں ، ملک شاہ اور نظام الملک نے الپ ارسلان کے ساتھ کاراخانیوں کے خلاف مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ تاہم ، اس مہم کے دوران الپ ارسلان بری طرح سے زخمی ہوگئے تھے ، اور ملک شاہ نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے فوج کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور فوج کا شیرازہ بکھرنے سے بچا لیا۔ کچھ دن بعد الپ ارسلان کا بعد انتقال ہوگیا ، اور ملک شاہ کو سلطنت کا نیا سلطان قرار دیا گیا۔

ملک شاہ سلجوقی کی تخت نشینی

جب سلطان ملک شاہ اول نے سلجوک سلطنت کی حکمرانی سنبھالی تو اس وقت سلجوق سلطنت کی سرحدیں مشرق سو پاکستان کے صوبہ سرحد مغرب میں اناطولیہ شمال میں رشیا اور جنوب میں عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ سلطان ملک شاہ سلجوقی سلطنت کا نظام بخوبی سنبھالا اور بیسو بغاوتوں کو کچھ ملا۔ سلطان ملک شاہ کے دور میں ان کے بھائیوں نے وقت اس وقت بغاوت کا علم بلند کر کے رکھا اور سلطان ملک شاہ کو ہمیشہ سطح رکھا ایسے میں جب سلطان ملک شاہ بازنطینیوں سے نبرد آزما تھے تو ان کے اپنے گھر کے افراد ان کے خلاف منصوبہ بندیوں میں مصروف تھے ۔ سلطان ملک شاہ نے اپنی ذہانت سے سلجوقی سلطنت کا نظام سنبھالے رکھا اور بیسواں غداروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سلطان ملک شاہ اول ایک بہادر نڈر اور جانثار کمانڈر کی حیثیت سے ہمیشہ صف اول میں دشمنوں کو بچھڑتے رہے۔

سلطان ملک شاہ کا دور حکومت

ملک شاہ نے سائنس ، آرٹ اور ادب میں خواہ دلچسپی ظاہر کی تھی۔ اصفہان آبزرویٹری یا ملک شاہ آبزرویٹری ان کے دور حکومت میں تعمیر کی گئی تھی ، جو 1092 میں ان کی وفات کے فورا بعد ہی بند ہوگئی تھی۔ آبزرویٹری میں کام سے ہی جلالی تقویم اختیار کی گئی تھی۔ انہوں نے فن تعمیر کے فن کو بھی بہت زیادہ سراها تھا ، کیوں کہ وہ اپنے دارالحکومت اصفہان میں نئی ​​اور شاندار مساجد کی تعمیر سے لطف اندوز ہونا چاھتے تھے ۔ وہ مذہبی لگاؤ بھی رکھتے تھے۔ جس کی تائید اس بات کی ہے کہ اس کے دور حکومت میں سلجوق سلطنت کے مضامین داخلی امن اور مذہبی رواداری سے بھرے پڑے تھے ۔ ملک شاہ شاعری کی طرف لگام تھا اور ان کے پسندیدہ اشعار عمر خیام تھے

سلطان ملک شاہ کی وفات

ملک شاہ 19 نومبر 1092 کو شکار کر رہے تھے۔ حسن بن صباح کے فدایوں نے ان کو زہر دے کر مار دیا۔ کچھ کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے وزیر نظام الملک کے حامیوں نے انہیں زہر دیا تھا۔ ترکن خاتون کے حکم کے تحت ، ملک شاہ کی لاش کو اصفہان واپس لایا گیا ، جہاں اسے ایک مدرسے میں دفن کردیا گیا۔
سلطان کی موت کے بعد ،سلجوق سلطنت افراتفری میں پڑ گئی ، جس کے بہت سے دعوے دار تھے اور سلطان ملک شاہ کا کوئی جانشین بھی مقرر نہیں کیا گیا تھا جس فیصل چوک صحت کو بہت نقصان پہنچایا۔ ایسے میں تمام وزراء نے اپنی اپنی چھوٹی سی ریاستیں بنالیں ۔ پہلی صلیبی جنگ کے آغاز سے ہی سلجوق سلطنت کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئ تھی۔

سلطان ملک شاہ کی وفات کے بعد اس طرح کا سلطان ہرگز مہیا نہیں ہوا کہ جو پوری سلجوقی سلطنت کو متحد کر صلیبیوں کے خلاف لڑ سکے ۔جس کے نتیجے میں 1098 اور 1099 میں شام اور فلسطین کے متعدد علاقے بازنطینیوں کے ہاتھ میں چلے گئے۔ وہ علاقے جن کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے فتح کیا تھا اب دوبارہ صلیبیوں کے ہاتھ مسلمانوں کو اس بات کا شدید رنج تھا اور اب امت مسلمہ ایک ایسے عظیم لیڈر کی تلاش میں تھی کہ جو دوبارہ سے صلیبیوں کو ان کے اصل ملک واپس لوٹا دے اور بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ جما لے۔ دراصل سلطان ملک شاہ نے ہی مسلمانوں کو بچائے رکھا تھا جو کہ اب وفات پا چکے تھے ۔

اسی ساتھ میں آپ سے اجازت چاہوں گا اگر آپ اسی طرح کے مزید آرٹیکل پڑھنا چاہتے ہیں تو ابھی ہمارا فیس بک پیج وزٹ کریں اور ہماری ویب سائٹ کو وزٹ کیا کریں

ہمارے مزید آرٹیکلز کے لنکس

مسلم سائنسدان عمر خیام کے کارنامے

سلطان صلاح الدین ایوبی کو خراج تحسین

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button